ایک چھوٹے سے گاوں میں ایک غریب مگر نیک دل مولوی صاحب رہتے تھے۔ وہ مسجد کے امام بھی تھے اور بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے تھے۔ ان کی بیوی بھی دین کی تعلیم دینے کے لئے محلے کی لڑکیوں کو پڑھاتی تھی۔ انہی کا ایک ہی سہارا تھا—ان کی اکلوتی بیٹی، جو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے گاوں بھر میں مشہور تھی۔
اسی حسن کی شہرت چودھری کے بیٹے تک بھی جا پہنچی۔ تجسس کے مارے وہ مولوی کے گھر ایک دن نیاز دینے کے بہانے آ پہنچا تاکہ لڑکی کو دیکھ سکے۔ موقع ملا اور اس نے لڑکی کو دیکھ بھی لیا۔ وہ پہلی ہی نظر میں اس پر دل ہار بیٹھا۔
چودھری کے بیٹے نے اپنے باپ کو ضد کر کے کہا کہ وہ صرف اسی لڑکی سے شادی کرے گا۔ مگر چودھری صاحب جانتے تھے کہ ان کا بیٹا بگڑا ہوا ہے، شراب پیتا ہے اور برائیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ مولوی صاحب کے پاس گئے اور صاف کہہ دیا کہ اگر چاہیں تو رشتہ منظور کر لیں، ورنہ وہ برا نہیں مانیں گے۔ مولوی صاحب نے بیٹی کی عزت اور مستقبل کے پیشِ نظر انکار کر دیا۔
چودھری کا بیٹا انا پر آ گیا۔ وہ یہ برداشت نہ کر سکا کہ ایک غریب مولوی نے اس کی دولت اور طاقت کے باوجود رشتہ رد کر دیا۔ اس نے دل میں انتقام لینے کا فیصلہ کر لیا۔
کچھ دن گزرے تو مولوی کی بیٹی کو اچانک پیٹ میں درد رہنے لگا۔ پہلے پہل تو گھریلو علاج کیے گئے، مگر پھر پیٹ غیر معمولی طور پر پھولنے لگا۔ وہ لوگ گھبرا گئے اور حکیم کے پاس لے گئے۔ حکیم نے نبض دیکھ کر کہا کہ یہ لڑکی حاملہ ہے۔ یہ سنتے ہی مولوی کے گھر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مولوی نے بیٹی کو سخت ڈانٹا اور مارنے پیٹنے پر اتر آئے، مگر لڑکی اپنی بےگناہی پر ڈٹی رہی۔
ادھر چودھری کے بیٹے نے حکیم کو پیسے دے کر ساری حقیقت جان لی اور گاوں میں یہ خبر پھیلا دی کہ مولوی کی بیٹی نکاح کے بغیر حاملہ ہے۔ گاوں والوں نے باتیں بنانی شروع کر دیں، عورتیں دروازے پر آ کر طعنے دینے لگیں، اور آخر کار پنچایت نے مولوی سے مسجد کی امامت بھی چھین لی۔ گویا عزت خاک میں مل گئی۔
اسی دوران ایک دن ایک نوجوان مولوی کے دروازے پر آیا۔ اس نے بتایا کہ وہ کبھی ان کا شاگرد رہا ہے اور اب شہر سے حکمت سیکھ کر آیا ہے۔ اسے خبر ملی کہ مولوی کی بیٹی پر الزام لگایا جا رہا ہے، اس لئے وہ سچ جاننا چاہتا ہے۔ مولوی صاحب نے مجبور ہو کر اس کی مدد مان لی۔
نوجوان حکیم نے لڑکی کا معائنہ کیا اور کچھ سوالات پوچھے۔ پھر کہا کہ ایک بکرا اور ایک کتا درکار ہے، اور لڑکی کو دن بھر کچھ نہ کھانے دیا جائے۔ جیسے کہا گیا ویسے ہی کیا گیا۔
شام کو جب سب انتظام ہو گیا تو حکیم نے بکرے کا گوشت پکوا کر لڑکی کو کھلایا۔ بعد میں اسے ایک کمرے میں لے جا کر بتایا کہ جو گوشت اس نے کھایا ہے، وہ دراصل کتے کا گوشت ہے۔ یہ سنتے ہی لڑکی کو شدید الٹی ہوئی اور جو کچھ کھایا تھا سب باہر آ گیا۔ سب کے سامنے اس کے پیٹ سے ایک زندہ مینڈک بھی نکل آیا۔
یہ منظر دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ حکیم نے وضاحت کی کہ لڑکی نے شاید کبھی دریا یا ندی کا پانی پیا تھا، اور اس کے ساتھ چھوٹا سا مینڈک اندر چلا گیا تھا جو اب بڑا ہو گیا تھا۔ اسی وجہ سے پیٹ پھول گیا اور لوگ غلط فہمی میں پڑ گئے۔
اب گاوں کے سب لوگوں کو حقیقت سمجھ آ گئی اور مولوی کی بیٹی کی پاکدامنی سب پر ثابت ہو گئی۔ نوجوان حکیم کے کردار اور علم سے متاثر ہو کر مولوی صاحب نے اپنی بیٹی کی شادی اسی سے کر دی۔ یوں ان کی زندگی عزت کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔